مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کی تحریک امل نے حکومتِ لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ معاہدے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک غیر متوازن معاہدہ قرار دیا ہے جو صہیونی حکومت کے مفادات کو تقویت دیتا ہے۔
المیادین کے مطابق، تحریک امل نے لبنانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مکمل قومی بیداری اور اتحاد کا مظاہرہ کریں اور اسرائیل کی جانب سے ملک میں تفرقہ پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کا شکار نہ ہوں۔
تحریک امل نے اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ معاہدہ نہ صرف اسرائیل کے حق میں زمینی حقائق کو مستحکم کرتا ہے بلکہ اس میں لبنان کی سیاسی خودمختاری اور قومی حاکمیت کے لیے بھی سنگین خطرات لاحق ہوں گے اس لیے اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب الجزیرہ کے مطابق، جماعت اسلامی لبنان نے بھی واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی معاہدے کا بنیادی معیار لبنان کی مکمل خودمختاری کا تحفظ اور ملک کے تمام مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ہونا چاہیے۔
جماعتِ اسلامی نے مزید خبردار کیا کہ اسلحے کو صرف ریاست کے اختیار میں دینے یا پورے لبنان پر حکومتی عملداری کے حوالے سے کسی بھی قسم کی بات چیت اسرائیلی دباؤ یا دھمکی کے تحت نہیں ہونی چاہیے۔
آپ کا تبصرہ